عمران خان کی تیل کی قیمتوں سے متعلق پرانی ویڈیو وائرل عالمی مہنگائی پر بیان دوبارہ زیر بحث
عالمی جنگ اور تیل کی قیمتوں پر عمران خان کا مؤقف
تقریر کے دوران عمران خان نے کہا کہ اگر کوئی عالمی جنگ شروع ہو جاتی ہے یا ایران کی جنگ ہو جاتی ہے تو تیل کی قیمت 400 یا 500 روپے تک بھی جا سکتی ہے، یہ ہمارے قابو میں نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں کیونکہ پاکستان توانائی اور کئی دیگر اشیاء کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ
اپنی تقریر میں عمران خان نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے بدلتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک وقت میں تیل کی قیمت 45 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھی لیکن صرف چند ماہ کے اندر بڑھ کر 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
انہوں نے کہا کہ جب عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف پیٹرول تک محدود نہیں رہتا بلکہ معیشت کے تقریباً ہر شعبے پر پڑتا ہے۔
مہنگائی کی بڑی وجوہات
عمران خان کے مطابق پاکستان کی معیشت عالمی مارکیٹ سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے انہوں نے اپنی تقریر میں چند اہم نکات بیان کیے فریٹ اور شپنگ چارجز میں تقریباً 350 فیصد تک اضافہ ہوا پاکستان تیل بڑی مقدار میں بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے ملک میں بجلی کا ایک بڑا حصہ تیل سے پیدا کیا جاتا ہے
گھی اور پام آئل بھی زیادہ تر درآمد کیے جاتے ہیں
پاکستان تقریباً 70 فیصد دالیں بیرون ملک سے منگواتا ہے
ان کے مطابق جب پوری دنیا میں مہنگائی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو دوبارہ وائرل کیوں ہوئی؟
حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث یہ ویڈیو دوبارہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے۔ صارفین اس ویڈیو کو موجودہ معاشی اور سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
کچھ صارفین اسے عالمی معاشی حقائق کی وضاحت قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے سیاسی بحث کا حصہ بنا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت عالمی منڈی سے براہ راست متاثر ہوتی ہے، خاص طور پر توانائی، خوراک اور درآمدی اشیاء کی قیمتوں کے ذریعے۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں اکثر مقامی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

0 Comments