سچ کے سپاہی تنہا کیوں؟ پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات اور معاشرتی حقیقت
جام عارف سلطانی
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ظلم موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ ظلم کے خلاف بولنے والا اکثر تنہا کھڑا نظر آتا ہے۔ جو صحافی سچ کے لیے اپنی جان، اپنا وقت، اپنی عزت، اپنا رزق اور اپنے گھر کا سکون داؤ پر لگا دیتا ہے، وہی سب سے کم محفوظ، سب سے کم سہارا یافتہ اور سب سے زیادہ نشانے پر ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سچ کے یہ سپاہی آخر تنہا کیوں ہیں؟ کیوں وہ صحافی جو عوام کی آنکھ، کان اور زبان بنتا ہے، مشکل وقت میں خود بے آواز اور بے یار و مددگار رہ جاتا ہے؟
اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سچ کو پسند تو کیا جاتا ہے، مگر صرف اس وقت تک جب تک وہ ہمارے اپنے مفاد کے خلاف نہ جائے۔ جیسے ہی کوئی صحافی کسی طاقت ور شخصیت، مافیا، بااثر گروہ، کرپٹ افسر یا مفاد پرست نظام کا چہرہ بے نقاب کرتا ہے، فوراً سچ بولنے والے کے گرد خوف، دباؤ، دھمکی اور تنہائی کا جال بننا شروع ہو جاتا ہے۔ اس وقت لوگ سچ کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی حفاظت، اپنی مجبوری اور اپنے مفاد کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یوں سچ لکھنے والا صحافی میدان میں اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ ادارہ جاتی کمزوری اور مفاد پرستی ہے۔ بہت سے صحافی اپنی جیب سے خرچ کر کے، اپنی سواری میں پٹرول ڈلوا کر، اپنے وقت اور محنت کو قربان کر کے خبر تک پہنچتے ہیں۔ وہ جائے وقوعہ پر جاتے ہیں، خطرناک حالات میں حقائق اکٹھے کرتے ہیں، لیکن جب ان پر دباؤ آتا ہے تو اکثر ادارے ان کے پیچھے ڈھال بننے کے بجائے خاموش ہو جاتے ہیں۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ “اوپر سے حکم ہے”، کہیں خبر روک دی جاتی ہے، کہیں صحافی کو ہی سمجھوتہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ جب ادارے اپنے ہی کارکن کے ساتھ مضبوطی سے نہ کھڑے ہوں تو سچ کا سپاہی تنہا نہ ہو تو اور کیا ہو؟
تیسری وجہ یہ ہے کہ طاقت ور لوگوں کے خلاف سچ لکھنا صرف پیشہ ورانہ کام نہیں بلکہ ایک مسلسل خطرہ مول لینا ہے۔ مافیا، قبضہ گروپ، منشیات فروش، بدعنوان عناصر اور بااثر شخصیات اس صحافی کو اپنے مفادات کے راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ وہ اسے ہٹ لسٹ پر رکھتے ہیں، موقع ملتے ہی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، جھوٹے مقدمات، دھمکیاں، معاشی دباؤ اور جسمانی حملے تک کیے جاتے ہیں۔ کئی صحافی اپنی جان تک گنوا چکے ہیں، مگر ان کے خون سے بھی اکثر نظام کی بے حسی نہیں جاگتی۔ اس خاموشی سے ایک پیغام جاتا ہے کہ سچ بولنے والا اپنے انجام کا خود ذمہ دار ہے، اور یہی سوچ اس کی تنہائی کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
چوتھی وجہ عوامی بے حسی ہے۔ ہم خبر پڑھ لیتے ہیں، ویڈیو دیکھ لیتے ہیں، ظلم پر افسوس بھی کر لیتے ہیں، مگر اس صحافی کے لیے آواز کم ہی اٹھاتے ہیں جو اس ظلم کو ہمارے سامنے لایا۔ ہم سچ سننا چاہتے ہیں، مگر سچ بولنے والے کا ساتھ دینے سے گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں جھوٹ منظم دکھائی دیتا ہے اور سچ منتشر۔ باطل کے پاس طاقت، سرمایہ، تعلقات اور نظام کی پشت پناہی ہوتی ہے، جبکہ سچ کے پاس صرف قلم، ضمیر اور حوصلہ ہوتا ہے۔ جب پورا معاشرہ خاموش تماشائی بن جائے تو سچ کا سپاہی تنہا رہ جاتا ہے۔
لیکن اس ساری تلخی کے باوجود ایک حقیقت بہت روشن ہے: اگر یہ سچ کے سپاہی نہ ہوں تو معاشرہ اندھیرے میں مکمل ڈوب جائے۔ یہی لوگ ہیں جو خوف کے باوجود سچ لکھتے ہیں، جبر کے باوجود سوال اٹھاتے ہیں، اور تنہائی کے باوجود اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے۔ ان کی تنہائی دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر کی کمزوری ہے، ان کی اذیت ہمارے سماجی نظام کی ناکامی ہے، اور ان کا استقامت سے کھڑا رہنا ہماری آخری امید ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سچ لکھنے والے صحافی کو محض خبر دینے والا شخص نہ سمجھیں بلکہ اسے انصاف، شعور اور سماجی بقا کی ایک بنیادی قوت مانیں۔ ریاست اس کے تحفظ کی ضمانت دے، ادارے اس کے ساتھ ڈھال بن کر کھڑے ہوں، اور عوام اس کے حق میں آواز بلند کریں۔ کیونکہ جس دن سچ کے یہ سپاہی مکمل طور پر تنہا ہو گئے، اس دن صرف ایک صحافی نہیں ہارے گا بلکہ پورا معاشرہ ہار جائے گا۔
سچ کے سپاہی تنہا اس لیے ہیں کہ ہم نے سچ کو تو اہم سمجھا، مگر سچ بولنے والے کو اکیلا چھوڑ دیا۔

0 Comments