Ticker

6/recent/ticker-posts

گوادر سے خطرے کی گھنٹی! نایاب بوہیڈ گٹارفش پکڑی گئی، عالمی ادارے کی تصدیق

گوادر کے ساحل کے قریب نایاب بوہیڈ گٹارفش پکڑی گئی ماہرین میں تشویش کی لہر


گوادر کے ساحل کے قریب خطرے سے دوچار نایاب بوہیڈ گٹارفش (بوہیڈ گٹارفش) پکڑی گئی ہے جس کی تصدیق ڈبلیو ڈبلیو ایف نے کی ہے۔

کہاں اور کیسے ملی؟

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق یہ نایاب مچھلی تقریباً 30 میٹر گہرے پانی سے پکڑی گئی۔

لمبائی: 140 سینٹی میٹر سے زائد

وزن: 65 کلوگرام سے زیادہ

ماہرین کے مطابق یہ دنیا کی انتہائی نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار سمندری انواع میں شمار ہوتی ہے۔

عالمی سطح پر خطرناک صورتحال

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق

دنیا بھر میں اس نسل کی تعداد میں تقریباً 80 فیصد کمی ہو چکی ہے۔

غیر قانونی اور ضرورت سے زیادہ ماہی گیری اس کی بڑی وجہ ہے۔

عالمی سطح پر اس کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے۔

اس کے باوجود غیر قانونی شکار کی وجہ سے یہ نسل تیزی سے ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

پاکستان میں بھی کمی

رپورٹس کے مطابق پاکستان کے سمندری علاقوں میں بھی اس نایاب مچھلی کی تعداد میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ

مادہ مچھلی ایک وقت میں بہت کم بچے دیتی ہے۔

افزائش نسل کی رفتار سست ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ زیادہ شکار کا آسان ہدف بن جاتی ہے۔

ماہرین کا مطالبہ

ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ

غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

سمندری حیات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

نایاب انواع کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم الیکٹرک بائیک اسکیم 2026 شروع! آن لائن اپلائی کریں، سبسڈی حاصل کریں

Post a Comment

0 Comments

Recent