ام رباب چانڈیو تہرے قتل کیس: مکمل تفصیلی رپورٹ، پس منظر اور عدالتی فیصلہ
مقدمہ اور پس منظر
سترہ جنوری 2018 کو سندھ کے علاقے میہڑ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک میں توجہ حاصل کی۔ ام رباب چانڈیو کے دادا رئیس کرم اللہ چانڈیو، والد تمندار مختار علی چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو دن دیہاڑے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
ورثا کے مطابق مقتولین نے علاقے میں رائج سرداری نظام کے خلاف ایک تمندار کونسل قائم کی تھی، جس کے بعد انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ ام رباب چانڈیو نے اس واقعے کو ایک منصوبہ بند قتل قرار دیتے ہوئے 8 افراد پر الزام عائد کیا، جن میں مبینہ طور پر سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں۔
قانونی جدوجہد اور کیس کی سماعت
اس کیس نے پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک طویل قانونی سفر طے کیا۔ ام رباب چانڈیو نے انصاف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کی اور مختلف عدالتوں میں کیس کی پیروی جاری رکھی۔
یہ مقدمہ متعدد انسداد دہشتگردی عدالتوں (اے ٹی سی) میں زیر سماعت رہا، جن میں نوشہروفیروز، سکھر، میرپور ماتھیلو اور بعد ازاں دادو کی سیشن کورٹ شامل ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس کیس میں تقریباً 392 پیشیاں ہوئیں۔ مقدمے میں تین عینی شاہدین اور میڈیکل رپورٹس سمیت مختلف شواہد بھی پیش کیے گئے۔
اس دوران اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان نے کیس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسے تین ماہ میں نمٹانے کی ہدایت بھی دی تھی۔
عدالتی فیصلہ
تیس مارچ 2026 کو دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔ جج حسین کلوڑ نے تمام 8 ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ (پراسیکیوشن) ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔
فیصلے کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ رہی اور پولیس کی بڑی نفری تعینات کی گئی۔
ام رباب چانڈیو اور وکیل کا ردعمل
عدالتی فیصلے کے بعد ام رباب چانڈیو نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ عدالت کا ہے، لیکن ان کے مطابق اصل انصاف عوام کی عدالت میں ان کے مؤقف کے حق میں موجود ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کریں گی۔
ان کے وکیل صلاح الدین پنہور نے بھی فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجود شواہد کے باوجود سزا نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، اور وہ بھی اعلیٰ عدلیہ میں اپیل دائر کریں گے۔

0 Comments