Rahim Yar Khan: In the famous murder case, the accused were sentenced to death four times
رحیم یارخان ( نیشن آف پاکستان نیوز، محمد خرم لغاری سے ) تھانہ سٹی اے ڈویژن کے مشہور مقدمہ قتل کے دونوں ملزمان کو انسداد دہشت گردی کورٹ بہاولپور نے چار چار بار سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنا دی تفصیل کے مطابق رحیم یار خان پولیس کی بہترین تفتیش اور پیروی انسداد دہشت گردی کورٹ نے تھانہ سٹی اے ڈویژن کے مقدمہ قتل میں ملزمان کو چار چار بار سزائے موت اور بھاری جرمانہ کی سزا سنا دی
سال 2022 میں عبدالرحمن نامی نوجوان کو اس کے قریبی دوستوں نے دو کروڑ تاوان کی خاطر اغواء کر کے موت کی گھاٹ اتار دیا تھا پولیس نے ورثاء کی جانب سے نامعلوم افراد کے خلاف درج کروائے گئے اغواء کے مقدمہ میں ملزمان کو ٹریس کر کے اس اغواء اور اندھے قتل کی واردات کو بے نقاب کر کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا
عبدالرحمن نامی نوجوان کام سے فراغت پر اپنے بڑے بھائی کو دوستوں کے ساتھ مقامی ہوٹل میں کھانا کھانے کا کہہ کر گیا اور واپس نہ آیا جس پر اس کے بڑے بھائی نوید احمد نے نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ سٹی اے ڈویژن میں مقدمہ نمبر 446/22 درج رجسٹر کروایا جس پر پولیس نے پوری صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور تن دہی سے کام کرتے ہوئے جلد ہی روائتی و غیر روائتی طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مقتول عبدالرحمن کے اغواء میں ملوث اس کے دو قریبی دوستوں ملزمان احسن اور رضوان کو حراست میں لے کر ٹیکنیکل بنیادوں پر تفتیش کی دوران تفتیش ملزمان نے عبدالرحمن کو اغواء کر کے بھید کھلنے کے ڈر سے اسے موت کی گھاٹ اتار کر چولستان میں دفن کرنے کا انکشاف کیا تو پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر چولستان سے مقتول عبدالرحمن کی دفن شدہ نعش کے باقیات برآمد کرتے ہوئے تمام تر شواہد اکھٹے کیے اور حسب ضابطہ کاروائی عمل میں لاکر مقدمہ کو انسداد دہشت گردی کورٹ بہاولپور چالان کیا
جس کی مکمل شنوائی پولیس کی بہترین تفتیش و شواہد و ثبوت پیش کرنے اور مسلسل و موئثر پیروی سے اتفاق کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کورٹ کے جج محمد ارشد انجم نے ملزمان احسن اور رضوان کو قاتل ثابت ہونے پر چار چار بار سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنادی
ڈی پی او رضوان عمر گوندل نے پیروی کرنے والی پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے مجرمان کی سزا یابی کو پولیس کی بہترین تربیت و پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ کوئی بھی جرم کرتے ہوئے مجرم اس دھوکے میں ہرگز نہ رہے کہ وہ قانون کو جل دے کر اپنے جرم کو ہضم کر پائے گا پولیس اور عدالتیں عوام کی محافظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے پوری توانائیوں کے ساتھ میدان عمل میں پیرا ہیں اور اس سلسلہ میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔
0 Comments