Ticker

6/recent/ticker-posts

کراچی:سٹاک ایکسچینج حملےکی تفتیش میں ہولناک انکشاف

Karachi: Horrific revelation in the investigation of stock exchange attack

کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔تفتیشی حکام نے دہشت گردوں سے ملنے والے دو موبائل فونز کی فرانزک مکمل کرلی ہے۔جس کے مطابق دہشت گرد قندہار افغانستان میں حملے کے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں تھے۔اس کے بعد تفتیش کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا گیا ہے اور دیکھا جا رہا ہے کہ آیا ملزمان کراچی کے کسی مقامی افراد سے بھی رابطے میں تھے اور کس کے پاس رہائش پذیر تھے اسٹاک مارکیٹ حملہ کیس میں استعمال ہونے والی گاڑی سے متعلق بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔سیکیورٹی اداروں نے کراچی پرانی سبزی منڈی میں واقع شو روم کمالک کو بھی تفتیش میں شامل کر لیا ہے۔اور شو روم پر چھاپہ مارتے ہوئے گاڑی کے ملکیتی دستاویزات اور شوروم کے کیمروں کی فوٹیج اداروں نے تحویل میں لے لی ہے سی سی ٹی وی فوٹیج میں گاڑی کے خریدار کو سودا کرتے دیکھا گیا جبکہ گاڑی کی شوروم سے روانگی کی فوٹیج بھی ان کے کیمرے میں موجود ہیں۔قبل ازیں محکمہ انسداد دہشت گردی کراچی کے انچارج راجہ عمر خطاب نے بتایا تھا کہ 4 حملہ آوروں میں سے 3 کی شناخت فنگر پرنٹس کے ذریعے سلمان، تسلیم بلوچ اور سراج کے ناموں سے ہوگئی ہے. انہوں نے بتایا کہ تینوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے تھا‘ ایک دہشت گرد کو ان کی گاڑی سے 25 فٹ، دوسرے کو 26 فٹ، تیسرے کو 300 فٹ اور چوتھے کو 312 فٹ کی دوری پر ہلاک کیا گیا. راجہ عمر خطاب نے کہا کہ گاڑی سلمان نے پرانی سبزی منڈی سے نقد رقم دے کر خریدی تھی اور اپنا اصل شناختی کارڈ بھی جمع کرایا تھا جو ابھی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے‘انہوں نے کہا کہ دہشت گرد لیاری ایکسپریس وے کے غریب آباد انٹرچینج سے آئے تھے اور انہوں نے حملے کے لیے ماڑی پور روڈ استعمال کیا تھا. انہوں نے کہا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے شواہد حاصل کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے‘واضح رہے کہ کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی ‘کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے سوشل میڈیا کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کی

Post a Comment

0 Comments

click Here

Recent