Islamabad: Maulana Asad Mahmood's full speech in the National Assembly
تحریر وترتیب زاہدمقصوداحمدقریشی
پاکستان کے سال 2020،2021 کے حوالے سے اس پارلیمنٹ کے لیے ایک اہم دن ہے تمام پاکستانیوں کے لیے یہاں پر جس قسم کی گفتگو ہوٸی میں سمجھتا ہوں کہ کم ازکم آج کے دن اس قسم کی گفتگو سے اجتناب کرنا چاہیے تھا بجٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے اور عوام کے سامنے جتنا ہم اس پارلیمنٹ کو بے توقیر کرچکے ہیں مزید ہم اس سے زیادہ اور کتنا ہم اپنے آپ کو بے توقیر کرسکتے ہیں یقینابجٹ کے حوالے سے تجاویز آپ کو اپوزیشن نے دیں اور کئی روز بجٹ کے اجلاس میں اپوزیشن نے جس سنجیدگی کا مظاہرہ کیا یہاں پر انتہائی موزوں تجاویز پیش کی گئی یقینا سیاسی حوالے سے تمام اپوزیشن ارکان کسی نہ کسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی اپنی پارٹی کا سیاسی موقف بھی آپ کے سامنے رکھا ہوگا،لیکن جب آپ نے بجٹ تقریر کی اس کے 3دن تک یا 4دن تک وزارت خزانہ سے متعلق مشیر خزانہ یا وزیر خزانہ یااس سے متعلق دوسری وزارتوں کا کوی ایک بھی منسٹر یہاں موجود نہ تھا یہ آپ کی سنجیدگی کا عالم تھا،ہم اس وقت بھی کہتے تھے کہ یہ بجٹ آپ کا بنایا ہوا بجٹ نہیں ہے یہ آپ کو تیار شدہ بجٹ ملا ہے یہ آٸی ایم ایف کا بجٹ ہے یہ پاکستانی عوام کا معاشی قتل ہے،ہم 10 سال سے چیخ رہے تھے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ بین الاقوامی ادارے وہ پاکستان کی سیاست کو متنازع بنانا چاہ رہے ہیں پاکستان کی ترقی ان کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے وہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی دباو میں لاے اور آپ کو ایک خاص ایجنڈے کے تحت ہم پر مسلط کیا اس قوم پر مسلط کیا میں نے یہاں پر آپ کے وزراء کو سنا کہ ہم عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں ہم ڈٹ کر کھڑے رہیں گے کیا آپ نے پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے یہی الفاظ استعمال نہیں کیے تھے کیا آپ نے مسلم لیگ اور نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے یہی الفاظ استعمال نہیں کیے تھے کیا آپ نے جنرل مشرف کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے یہی الفاظ استعمال نہیں کیے تھے آج پھر اپنے مفادات کے ساتھ کھڑے ہیں آپ پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفاد کے خلاف ہیں آپ نے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کی ہے ہم نے ہر دور میں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کیا ہے ہم آج بھی آپ کو چیلنج کررہے ہیں ہم کل بھی آپ کو چیلنج کرتے رہیں گے بات پٹرول کی ہوتی ہے بات آٹے کی ہوتی ہے بات چینی کی ہوتی ہے آپ کی کیبنٹ میں چینی چوربیٹھے ہیں آپ کی کیبنٹ میں آٹا چور بیٹھے ہیں آپ کی کیبنٹ میں پٹرول چور اورپٹرول مافیا بیٹھا ہوا ہے آپ نے تمام مافیا کو جنھوں نے آپ کے لیے پیسہ لٹایا الیکشن میں ان کو آپ نے سپورٹ کیا اور آپ ایک بیان دے دیتے ہیں نہ اوگرا آپ کوسفارش کرتی ہے نہ آپکی کیبنٹ کے وزراء کو پتہ ہوتا ہے آپ کہاں سے یہ فیصلے کررہے ہوتے ہیں اور آج یہاں آکر اپنی پارٹی اور لیڈر شپ سے وفاداری کا ثبوت دے رہے ہیں جن کے مفاد اس پوری قوم کی نظروں میں مشکوک ہیں آپ اس کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دے رہے ہیں اس قسم کی باتیں نہ کی جاٸیں ہم نے اپوزیشن کی حیثیت سے ہمارا جو ہدف ہے ہم نےپارلیمانی تاریخ میں اتنی سنجیدہ اپوزیشن نہیں دیکھی جتنی سنجیدگی کا مظاہرہ اس اپوزیشن نے کیا ہےاپوزیشن ارکان جیلوں میں پڑے ہیں خورشید شاہ جیل میں پڑا ہے جنھوں نے ہمیشہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اس پارلیمنٹ میں آج بھی کئی دہائیوں سے لیکن آپ نے ضد اور انا میں جس قسم کے آپ نے مقدمے بناٸے آپ کے وزیر اعظم نے یہاں کھڑے ہوکر بات کی کہ ہم عدل اور انصاف کی بات کرتے ہیں آپ کو رانا ثناءاللہ کے خلاف تو انصاف چاہیے آپ کو پرویزخٹک کے خلاف انصاف نہیں چاہیے آپ کو جہانگیر ترین کے خلاف انصاف نہیں چاہیےآپ کو علیمہ خان کے خلاف انصاف نہیں چاہیے یہاں پر ہمارےسامنے آپ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں ہمیں آپ کا کردار معلوم نہیں ہے جناب ڈپٹی اسپیکر یہ بجٹ آپ کی حکومت کا بنایا ہوا بجٹ نہیں ہے یہاں پر کھڑے ہوکر آپ نے آٸین کے ساتھ حلف اٹھایا ہے آپ حلفا کہ دیں آپ کے وزیراعظم کواس بجٹ کا پتہ ہے جو بجٹ آپ نے پیش کیا ہےیہاں ہمیں قصہ کہانیاں سنانے آجاتے ہیں یہاں اسلام کی تعریف جو ہم نے آپ کی زبان سے اسلام کی تعریف سنی ہے اگر ریاست مدینہ کا جو تصور بھی آپ کے ذہن میں یہی ہے جو آپ کہ رہے ہیں ہمارے دل لرز جاتے ہیں جس قسم کی زبان آپ اسلام اور اسلامی تاریخ کے حوالے سے استعمال کرتے ہیں ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں قوم کو یہاں اسلام کے نام پر اقتدار میں بیٹھنے کے لیے کتنے لوگوں نے دھوکا دیا ہم نے ان لوگوں سے دھوکہ نہیں کھایا آپ تو ان لوگوں کے عشرعشیر بھی نہیں ہیں لیکن اتنا آپ پر واضح کروں گا جناب ڈپٹی اسپیکر کہ آج ہم بجٹ میں عدد کے اعتبار سے ضرور کم ہونگے لیکن بجٹ پاس ہونے کے بعد آپ عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجاناہم قوم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونگے آپ کو گلی کوچوں میں بتاٸیں گے کہ آپ کے بجٹ کا کیا اثر قوم پر پڑا ہے یہ بجٹ آپ پیش کررہے ہیں اور پھر3سوارب روپیہ کاراتوں رات آپ ٹیکہ لگا دیتے ہیں قوم کوآپ اپنے ممبران کو قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدنے کے لیے یہ کام کررہے ہیں آپ اپنے ممبران کو راضی کرنے کے لیے عوام کی جیبوں سے پیسے نکال رہے ہیں اور اپنی حکومت کو دوام دے رہے ہیں یہ سارا پیسہ وہی مافیا آپ کی حکومت کے لیے استعمال کررہاہے
یہ بھی پڑھیں : سٹاک ایکسچینج حملےکی تفتیش میں ہولناک انکشاف
میں کوٸی اس میں ابہام نہیں سمجھتا پوری قوم جانتی ہے جو صورتحال ہے بہت گھمبیر ہے ہماری سیاست پر حملے ہوٸے جمہوریت پر حملے ہوٸے اور یہاں پر کوی کہتا ہے کون قاتل ہے کون شہید ہے اس پر ہمارا موقف واضح ہے لیکن ایک بات جو قوم جانتی ہے کہ عمران خان اس قوم کا معاشی قاتل ہے عمران خان اس قوم کا جمہوری قاتل ہے اور عمراں خان اس قوم کا خارجہ پالیسی کے حوالے سے قاتل ہے عمران خان مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا خون انھوں نے کیا ہے ان کے جذبات کا خون انہوں نے کیا ہے جناب ڈپٹی اسپیکر یہ وہ لوگ جواب دے رہے ہیں جن کا چیلنج میں قبول کرچکا ہوں اور پھر بھی میں کوی غیر پارلیمانی گفتگو نہیں کرنا چاہتا لیکن آپ کی حیثیت مجھے معلوم ہے آپ کا کردار مجھے معلوم ہے لمبے بالوں اور لمبی مونچھوں سے کوی بہادر نہیں بنتا ہم نے یہ پگڑیاں اس لیے نہیں پہنی کہ آپ جیسے کردار کے لوگ ہمیں دباسکیں ہم تمہارے آقا امریکہ سے نہیں دبے جناب ڈپٹی اسپیکر یہاں پر تمام لوگوں کی تقریریں سنی گئیں ہم نے سنیں ہمارے ممبران نے سنی جانتے ہوٸے بھی کہ آپ کے ممبران جھوٹ بول رہے ہیں تب بھی سنی اس قسم کی گفتگو نہیں ہونی چاہیے اور تمہارا کردار کیا ہے میں تمہارا کردار نہیں جانتا آپ انکو سمجھاٸیں ہمیشہ ہماری تقریر میں مداخلت ہوتی ہے آپ اپنے ممبران کو بٹھاٸیں ہم آرام سے بات کررہے تھے جناب ڈپٹی اسپیکر بنی گالہ کے روڈوں پر میں نہیں بھاگ رہا تھا میں بنی گالہ کے روڈ پر نہیں بھاگ رہا تھاشہد کی بوتلیں کس کی گاڑی سے ملیں پورا پاکستان جانتا ہے جناب ڈپٹی اسپیکر ہم سنجیدہ بات کرتے ہیں ہمیں سنجیدہ جواب دیا جاے یہاں پرایک اور بہت حساس موضوع چھیڑا گیا جو نہیں چھیڑنا چاہیے تھا اور جس شخص کی یہ ذمہ داری بنتی ہے اس کا نام جنرل پرویز مشرف ہے اس کا نام کسی نے نہیں لیا کہ وہ قاتل ہے یا غازی ہے ہماری پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہونی چاہیے اور کھل کر بحث ہونی چاہیے افغانستان کے مسئلہ پر بھی بحث ہونی چاہیے اور کشمیر کے مسئلہ پر بھی بحث ہونی چاہیے اور یہاں ایک بات کی گئی لفظی لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کے لیے میں ایک بحثیت پارلیمانی لیڈر آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جمعیت علماءاسلام کے پاس 10 سال تک کشمیر کی پارلیمانی امور کی کمیٹی رہی آپ ان 10 سالوں کے اخراجات کی رپورٹ اس پارلیمینٹ میں پیش کریں اور سابقہ چیئرمینوں سے ان کا موازنہ کریں یہ اب اور قوم کو مزید دھوکہ نہیں دے سکتے یہ راجہ پرویزاشرف جس کے لئے جس کو عدالت نےاور ان عدالتوں نے جن کو آپ صحیح عدالتیں سمجھتے ہیں ان عدالتوں نے ان کو بری کیا تو افغانستان کے مسئلہ میں جو ہمارا موقف رہا ہے کہ سویت یونین کے خلاف بھی افغان عوام نے دفاعی جنگ لڑی آزادی اور حریت کی جنگ لڑی اور ہم نے ان کو سیاسی طور پر سپورٹ کیا امریکہ کے خلاف طویل جنگ لڑی ہم نے ان کو سیاسی طور پر صحیح سمجھا کہ وہ آزادی اور حریت کی جنگ لڑرہے ہیں ہمارے لیے امریکہ کی پالیسی معیار نہیں ہے کہ امریکہ کسی کو شہید کہے گا تو ہم پر لازم ہے کہ اس کو شہید کہیں اور امریکہ کسی کو قاتل کہے گا تو ہم پر لازم ہے کہ اس کو قاتل کہیں ہم اپنا موقف حق سچ اور دلیل کے ساتھ دیں گے اور دیتے آرہے ہیں جناب ڈپٹی اسپیکر یہ بجٹ جس پر ہم نے طویل بحث کی اور کشمیر پر جس قسم کی پالیسی آتی رہی ہیں آپ مظفر آباد جاتے ہیں تو کہتے ہیں آزادی مارچ والوں نے کشمیر ایشو کو پس منظر میں ڈالا خدا کے لیے جھوٹ نہ بولو کشمیریوں سے 70 سالوں سے جھوٹ بولتے آٸے ہو اب مزید جھوٹ مت بولو ان سے ان کی بھی نسلیں اس جنگ میں چلی گئیں کشمیر ایشو پر ہمارا موقف واضح ہے کشمیری حریت اور آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں پاکستانی عوام ان کے ہر محاذ پر شانہ بشانہ رہی اور کسی کو جرآت نہیں ہوسکی کہ جب کشمیر کمیٹی کے چیئرمین قائد ملت اسلامیہ مفکر اسلام حضرت مولانا فضل الرحمن تھے کہ وہ کشمیر پر سودا کرسکیں یہاں پر آپ کے وزارت امور کشمیر کے چیئرمین وزیر جو بیٹھے ہیں یہ صرف ہمیں اتنا بتا دیں کہ مقبوضہ کشمیر کا دارالحکومت کون سا ہے اسکا نہیں بتاسکتے آزاد کشمیر کا ہی بتا دیں خارجہ پالیسی پر آپ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ خارجہ پالیسی پر ہم نے انڈیا کو پچھاڑ کر رکھ دیا 192 میں 184 آپ کے مقابلے میں لے گیا اور پھر یہاں سے کوٸی بات ہوتی ہے جناب ڈپٹی اسپیکر تو آپ کہتے ہیں مس گائیڈ کیا گیا آپ کے وزیراعظم نے کہا کہ5 ہزار ارب روپیہ کا قرضہ معاف کیا گیا آپ خود اپنی بجٹ تقریر میں جو آپ نے ریونیو ہدف رکھا ہے وہ کتنا ہے قرضہ لے کر قرضہ معاف کرتے ہو اور قوم کو دھوکہ دیتے ہو کہ ہم نے بچت کی اور ہم نے پچھلی حکومتوں کے قرضے معاف کیے یہ ڈھونگ ہے ہم چیختے آرہے ہیں کہ یہ الیکشن ڈھونگ تھا یہ حکومت ڈھونگ ہے اور یہ بجٹ بھی ڈھونگ ہے ہم اس بجٹ کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں جو تجاویز ہماری طرف سے آٸی ہیں خواجہ آصف نے جس طرح فرمایا کہ ابھی بھی وقت ہے آپ کے پاس تجاویز منظور کرلیں آپ کہتے ہیں آپ ووٹ کے لیے ممبران کو لاٸے ہیں آپ متعلقہ وزرا کو یہاں بٹھا بھی سکے کہ وہ اپوزیشن کی تجاویز سن لیں آج آپ ووٹ کے لیے ان کو یہاں لاے ہیں یہ ہنر آپ کا اس وقت کہاں چلا گیا تھا جناب ڈپٹی اسپیکر اپوزیشن قوم کے مفاد اور حق میں آپ کو تجاویز دے رہی تھی اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ہم پاکستان کے عوام کے اندر جائیں گے اور اپنا بھر پور قومی مفادات کی جنگ قوم کے شانہ بشانہ لڑیں گے اور لڑتے آٸے ہیں

0 Comments