السلام علیکم دوستو ویلنٹائن ڈے ہرسال چودہ فروری کو ہوتا ہے لیکن ہم آپ کو بتائیں گے کہ چودہ فروری کو ویلنٹائن ڈے کیوں منایا جاتا ہے عام طور پر یہ دن محبت کے اظہار کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے لیکن چودہ فروری ہی کو ہی کیوں یہ دن منایا جاتا ہے سال کے باقی تین سو پینسٹھ دنوں میں کسی اور دن بھی یہ منایا جا سکتا تھا مگر چودہ فروری کو ہی کیوں محبت کا اظہار کیا جاتا ہے چودہ فروری ویلنٹائن ڈے کے بارے میں عید الحب یا ویلنٹائنس ڈے ایک خالص رومی عید ہے جسکی ابتداء سے متعلق کوئی تحقیقی بات کرنا مشکل امر ہے البتی اس عید سے متعلقہ کتابوں اور مقالوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ابتداء ایک اندازے کے مطابق 1700 سال قبل ہوئی تھی اس وقت یہ ایک مشرکانہ عید تھی کیونکہ اہل روم کے نزدیک 14 فروری کا دن یونو دیوی کے نزدیک مقدس تھا اور یونو دیوی کو عورتوں اور شادی کی دیوی کہا جاتا تھا اس لیے رومیوں نے اس دن کو عید کا دن ٹھہرالیا بعد میں اس موقع پر ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے یہ دن عشقیہ فحش اور غیر شرعی تعلقات رکھنے والوں کی عید بن گیا
کہا جاتا ہے کہ تیسری صدی میں رومی بادشاہ کلاوڈیوس کو اپنے مخالف کے خلاف فوج کشی کی ضرورت پڑی جس کے لیے اس نے فوج میں بھرتیاں شروع کیں تو لوگوں کی رغبت نہ دیکھی وجہ معلوم کروانے پر پتہ چلا کہ لوگ اپنے اہل و عیال اور خصوصاََ اپنی بیویوں کی طرف رغبت زیادہ رکھتے ہیں اس بات کا پتہ چلتے ہی اس نے حکم جاری کیا کہ شادی کی رسم کو ختم کردیا گیا ہے اور کوئی بھی عورت یا مرد اپنی پسند کے شخص سے بلا روک ٹوک ہر قسم کا تعلق قائم کرسکتے ہیں لیکن ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا اس نے اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور لوگوں کی چوری چھپے شادیاں کرواتا رہا اس بات کی اطلاع جب بادشاہ کلاوڈیوس کو ملی تو اس نے پادری کو جیل میں ڈال دیا جیل میں اس پادری پر جیلر کی لڑکی عاشق ہوگئی لیکن اس سے پہلے کہ معاشقہ مکمل ہوپاتا پادری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا یہ واقعہ 14 فروری سن 279ء کا ہے اسی مناسبت سے اسی مناسبت سے ہرسال چودہ فروری کو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ جوڑے یہ عید مناتے ہیں
جس میں اپنی محبت کا اظہار مختلف انداز سے کرتے ہیں ہمارے ملک میں تقریباََ ایک دہائی سے ویلنٹائن ڈے کو زور شور سے منانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت اس بارے میں کوئی خاص اور حتمی رائے قائم نہیں کرسکی اس دن کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کی ہمارے معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں جس نے اس دن کو منان ہے تو وہ کسی ایسے ملک کا رخ کرے جہاں اس دن کو منانا معیوب نہیں سمجھاء جاتا ویلنٹائن ڈے پر ہمارے ملک میں عجیب ںطارے دیکھنے کو ملتے ہیں پھولوں کی دکانوں سے پھول اچانک غائب ہوجاتے ہیں بس سٹاپ پر منچلے لڑکے لڑکیوں سے چھیڑخانی کرتے اور پھول پھینکتے دکھائی دیتے ہیں لڑکیاں بھی اس دن پیچھے نہیں رہتیں انہوں نے اس دن کے لحاظ سے سرخ لباس زیب تن کیے ہوتے ہیں تاکہ اس دن سے بھرپور لطف اندوز ہوا جاسکے اب یہ ایک فیشن بن گیا ہے اور پاکستان میں اس فیشن کو اپنانے کے لیے ہر کوئی سرگرداں ہے
یہاں اس بات کا ذکر انتہائی ضروری ہے خصوصاََ نئی نسل کے لیے جو ایسے فیشن اختیار کرتی ہے یا ایسے دنوں کو خوشی سے مناتی ہے جو ہمارے ہیں نہیں بلکہ اس تہذیب سے بھیجے گئے ہیں جسے دیکھ کر ہمارے سر شرم جھک جاتے ہیں آج مسلمانون کے اندر سب سے زیادہ غیر مسلم تہوار منانے کی نسبت سے منایا جانے والا دن ویلنٹائن ڈے ہے جس نے شرم و حیاء کو بالکل ختم کردیا ہے
ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم میں شرم و حیاء نہ رہے تو جو جی چاہے کرو (صحیح بخاری کتاب الادب) اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت کی اختیار کی وہ انہی میں سے ہے (سنن ابوداود- مسند احمد) ناطرین کفار کے تہوار ہم پر واجب نہیں مگر لوگوں نے اسی اپنی طرف سے اپنا لیا ہے لہذاء ایسے تہواروں کو منانے سے انکار کریں اور اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ قیامت کے دن اللہ تعالی اور اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطور مسلمان کیا منہ دکھائیں گے؟ اللہ تعالی ہم سب کو اسلام کے متعین کردہ راستوں پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین اللہ حافظ
0 Comments