پاکستان کا افغانستان کو احتجاجی مراسلہ، باجوڑ حملے کے تناظر میں سخت موقف
اسلام آباد: افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں، پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان کو احتجاجی مراسلہ جاری کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، باجوڑ میں 16 فروری کے حملے کے بعد افغان ناظم الامور کو مراسلہ دیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ اس حملے میں 11 پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔
ترجمان کے مطابق، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور کھلے عام سرگرم ہے۔ متعدد یقین دہانیوں کے باوجود عملی اقدامات سامنے نہیں آئے، جس پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی افغانستان اور بھارت کی پراکسی وار کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کابل سے امن کی ضمانت نہ ملی تو پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائی کے آپشن سے گریز نہیں کرے گا۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جب پاکستان پر حملے کی بات آتی ہے تو نئی دہلی اور کابل ایک صفحے پر نظر آتے ہیں، اور بھارت کے ساتھ جنگ کا امکان بھی موجود ہے۔
اسی دوران، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں نئے تعمیر شدہ اور زیر تعمیر تھانوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے تھانہ کوهسار، زیر تعمیر ویمن پولیس اسٹیشن جی-6 اور تھانہ کورال کا معائنہ کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریوں کو مزید سہولتیں فراہم کرنے کے لیے جدید سہولیات کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے ویمن پولیس اسٹیشن جی-6 کی تعمیر جلد مکمل کرنے اور تھانہ کورال کی عمارت کو دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی پولیسنگ کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

0 Comments