Lahore: Major anti-corruption action, retired sub-inspector Rafiq Ahmed arrested for corruption worth Rs 100 crore
لاہور: پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کچے کے علاقے میں 100 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن اور ناجائز اثاثے بنانے کے الزام میں ریٹائرڈ پولیس سب انسپکٹر رفیق احمد کو گرفتار کر لیا ہے۔
اینٹی کرپشن کے مطابق ملزم نے بحیثیت ایس ایچ او اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری اراضی پر قبضہ کیا اور کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنائیں۔
مقدمہ اور انکوائری کی تفصیل
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق سب انسپکٹر ریٹائرڈ رفیق احمد کے خلاف مکمل انکوائری کے بعد جرم ثابت ہونے پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے کچے کے علاقے میں تعیناتی کے دوران غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔
ناجائز کاشت اور سرکاری اراضی پر قبضہ
تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم رفیق احمد نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 1 ہزار 4 سو 44 کنال اراضی پر غیر قانونی کاشت کی۔
اسی طرح سال 2 ہزار 18 میں ملزم نے وقف حضرت خواجہ غلام فرید کی 1 ہزار 3 سو 84 کنال اراضی بھی اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر حاصل کی۔
بے نامی جائیدادیں اور قیمتی گاڑیاں
اینٹی کرپشن کی رپورٹ کے مطابق ملزم نے ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی آمدن سے اپنے بیٹوں کے نام پر بے نامی جائیدادیں بنائیں۔
اس کے علاوہ ملزم نے 4 عدد قیمتی گاڑیاں بھی خریدیں جنہیں رینٹ اے کار کے کاروبار میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
سو کروڑ سے زائد کا مالی فائدہ
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ سب انسپکٹر ریٹائرڈ رفیق احمد نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کر کے 100 کروڑ روپے سے زائد کا مالی فائدہ حاصل کیا۔ بعد از انکوائری جرم ثابت ہونے پر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور مزید تفتیش جاری ہے۔
اینٹی کرپشن کا موقف
پنجاب اینٹی کرپشن کے حکام نے کہا کہ کرپشن میں ملوث کسی بھی سرکاری افسر کو نہیں بخشا جائے گا۔ کچے کے علاقوں میں سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی حکام کے مطابق ملزم سے مزید ریکوری اور اثاثوں کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔
ریٹائرڈ سب انسپکٹر کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت پنجاب کرپشن کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اینٹی کرپشن کا یہ اقدام عوام میں قانون کی بالادستی کے احساس کو مزید مضبوط کرے گا۔

0 Comments