Ticker

6/recent/ticker-posts

راولپنڈی بورڈ کا شرمناک نتیجہ: ایک سو چوراسی سکولوں کا ایک بھی بچہ پاس نہ ہوا،اکیاسی سرکاری سکول شامل

Shameful result of Rawalpindi Board: Not a single child from 184 schools passed, including 81 government schools


اسلام آباد: (نیوز ڈیسک ) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن راولپنڈی نے دو ستمبر دو ہزار چھبیس کو نویں جماعت کا نتیجہ جاری کیا تو تعلیمی نظام کی ناکامی کھل کر سامنے آ گئی۔

راولپنڈی بورڈ کے تحت ایک سو چوراسی سکولوں کا نتیجہ صفر فیصد رہا۔ یعنی ان سکولوں سے امتحان دینے والا کوئی بھی طالبعلم کامیاب نہ ہو سکا۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان میں اکیاسی سکول سرکاری ہیں۔

راولپنڈی بورڈ کا نویں جماعت کا نتیجہ دو ستمبر کو صبح دس بجے جاری کیا گیا۔ 

بورڈ کے امتحانات میں کل ایک لاکھ اکیس ہزار سات سو انتالیس امیدوار شریک ہوئے۔ ان میں سے پینتالیس ہزار سات سو چوبیس طلبہ کامیاب ہوئے۔ مجموعی کامیابی کا تناسب سینتیس اعشاریہ چھپن فیصد رہا۔ تقریبا باسٹھ اعشاریہ چوالیس فیصد طلبہ ناکام ہوئے۔

صفر فیصد نتیجہ دینے والے سکول


راولپنڈی بورڈ کی حدود میں ایک سو چوراسی سکولوں کا نتیجہ صفر فیصد رہا۔ ان میں اکیاسی سکول سرکاری ہیں۔

سرکاری سکولوں میں صفر فیصد نتیجے کے حوالے سے ضلع راولپنڈی پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد ضلع اٹک دوسرے اور ضلع چکوال تیسرے نمبر پر ہے۔

ضلع وار تفصیل کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری سکول ملا کر ضلع راولپنڈی کے اکانوے سکول، ضلع اٹک کے پینتیس سکول، ضلع چکوال کے چھبیس سکول، ضلع جہلم کے چوبیس سکول، ضلع مری کے دس سکول اور ضلع تلہ گنگ کے آٹھ سکولوں کا نتیجہ صفر فیصد رہا۔

ماہرین کا موقف


تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ صفر فیصد نتیجے کی بڑی وجہ اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور سکولوں کی ناقص مانیٹرنگ ہے۔ 

والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سکولوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور تعلیمی معیار بہتر بنایا جائے۔

ابھی تک راولپنڈی بورڈ یا محکمہ تعلیم پنجاب کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں : ملتان: جامعہ اسلامیہ میں یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے سیمینار، مقررین کا افواج پاکستان کو خراج تحسین

Post a Comment

0 Comments

Recent