Ticker

6/recent/ticker-posts

رحیم یار خان: ظاہر پیر میں واپڈا اہلکاروں کو میٹر اتارنا مہنگا پڑ گیا، ایس ڈی او سمیت 6 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

Rahim Yar Khan: WAPDA officials found it expensive to remove meters in Zahir Peer, case registered against 6 officials including SDO

رحیم یار خان: ظاہر پیر میں واپڈا اہلکاروں کو میٹر اتارنا مہنگا پڑ گیا، ایس ڈی او سمیت 6 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج
ظاہرپیر ( نیشن آف پاکستان نیوز آن لائن+ ویب ڈیسک) رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے نواحی علاقہ ظاہر پیر میں بجلی کا میٹر اتارنے کی کارروائی واپڈا اہلکاروں کے لیے وبالِ جان بن گئی۔ شہری کے میٹر کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر اتارنے اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر تھانہ ظاہر پیر پولیس نے ایس ڈی او واپڈا ظاہر پیر راشد ندیم سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ ظاہر پیر شہر میں پیش آیا جہاں واپڈا کی ایک ٹیم نے ایک صارف کے گھر کا بجلی کا میٹر اتارنے کی کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق صارف کا موقف ہے کہ اس کا بجلی کا بل باقاعدگی سے ادا شدہ تھا اور کسی قسم کا کوئی بقایا جات یا بجلی چوری کا معاملہ نہیں تھا، اس کے باوجود واپڈا ٹیم نے بغیر کسی پیشگی نوٹس اور قانونی جواز کے میٹر اتار لیا۔
اس واقعے کے بعد متاثرہ شہری نے تھانہ ظاہر پیر میں درخواست دائر کی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق درج کی گئی ایف آئی آر میں ایس ڈی او واپڈا ظاہر پیر راشد ندیم، علی حیدر، لائن سپرنٹنڈنٹ رحمت اللہ، واپڈا ملازم طاہر لُنڈ سمیت تین نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔

ایف آئی آر کا متن اور الزامات

ایف آئی آر میں مدعی نے موقف اختیار کیا ہے کہ واپڈا اہلکار بغیر کسی قانونی اختیار کے اس کے گھر میں داخل ہوئے، اسے ہراساں کیا، اور زبردستی میٹر اتار کر لے گئے جس کی وجہ سے اسے شدید ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ مدعی نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ اہلکاروں نے نہ صرف اختیارات سے تجاوز کیا بلکہ شہری کے ساتھ ناروا سلوک بھی کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین کی گئی اور شواہد کی روشنی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اب اس معاملے کی مزید تفتیش تفتیشی افسر کے سپرد کر دی گئی ہے۔

عوام میں غم و غصہ اور ردِ عمل

اس واقعے کے بعد ظاہر پیر اور گردونواح میں عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ واپڈا اہلکار اکثر صارفین کے ساتھ اسی طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ بغیر نوٹس کے میٹر اتارنا، اضافی بل بھیجنا اور دفتر کے چکر لگوانا معمول بن چکا ہے۔
مقامی سماجی و سیاسی حلقوں نے پولیس کی جانب سے بااثر واپڈا افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے اقدام کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عام آدمی کے انصاف پر اعتماد کو بحال کرے گی اور آئندہ کسی بھی ادارے کے اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا۔
ایک شہری محمد اسلم نے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم بل ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود واپڈا والے ہمیں چور سمجھتے ہیں۔ بغیر بتائے میٹر اتار کر لے جانا کہاں کا انصاف ہے؟ پولیس نے مقدمہ درج کر کے بہت اچھا کیا ہے۔"
واپڈا حکام کی خاموشی
دوسری جانب اس سارے معاملے پر واپڈا حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ ایس ڈی او ظاہر پیر راشد ندیم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ واپڈا کے دیگر اہلکار بھی اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ واپڈا کے اندر بھی اس واقعے کے بعد کھلبلی مچی ہوئی ہے اور اعلیٰ حکام نے معاملے کا نوٹس لے کر اندرونی انکوائری شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

قانونی ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق واپڈا ایکٹ کے تحت بھی کسی صارف کا میٹر اتارنے سے قبل باقاعدہ نوٹس دینا اور اسے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا لازمی ہے۔ بغیر نوٹس کے میٹر اتارنا غیر قانونی عمل تصور ہوتا ہے۔ اگر صارف کا بل ادا شدہ ہے اور اس پر بجلی چوری کا کوئی ثابت شدہ کیس نہیں ہے تو محض شک کی بنیاد پر میٹر اتارنا اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پولیس تفتیش میں الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو نامزد اہلکاروں کو نہ صرف محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ انہیں عدالت کی جانب سے سزا بھی ہو سکتی ہے۔

پولیس کا موقف

تھانہ ظاہر پیر کے ایس ایچ او نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ واپڈا اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی محکمے سے ہو۔ میرٹ پر تفتیش کی جائے گی اور جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزید تفتیش جاری ہے اور جلد ہی نامزد اہلکاروں کو شاملِ تفتیش کیا جائے گا۔
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب عام شہری اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے لگا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی بااثر افراد کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز نہیں کر رہے۔ اہلِ علاقہ نے ڈی پی او رحیم یار خان اور ایکسین واپڈا رحیم یار خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اہلکار اس طرح کی غیر قانونی حرکت نہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، کاروباری اوقات کار تبدیل

Post a Comment

0 Comments

Recent