Ticker

6/recent/ticker-posts

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، کاروباری اوقات کار تبدیل

Smart lockdown imposed across the country after increase in petroleum product prices, business hours changed

حکومت نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد توانائی بچت کے لیے ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا، نئے اوقات کار کا نوٹیفیکیشن جاری۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ اور توانائی ڈویژن کی جانب سے مشترکہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد توانائی کی بچت، ایندھن کی کھپت میں کمی اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے توانائی بچت پلان پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

نئے کاروباری اوقات کار کیا ہوں گے؟

جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام کاروباری اور تجارتی مراکز کے لیے نئے اوقات کار مقرر کیے گئے ہیں تاکہ بجلی اور ایندھن کے غیر ضروری استعمال کو روکا جا سکے۔

جنرل اسٹورز، بازار اور شاپنگ مالز

ملک بھر کی تمام دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مال، بازار، ڈیپارٹمنٹل اسٹور اور جنرل اسٹور رات نو بجے تک کھلے رہیں گے۔ نو بجے کے بعد تمام کاروباری مراکز کو بند کرنا لازم ہوگا۔

شادی ہالز اور مارکیز

میرج ہال، مارکیز، بینکوئٹ ہال اور دیگر تمام کمرشل تقریبات کی جگہیں رات 10 بجے تک کھلی رہ سکیں گی۔ اس کے بعد کسی بھی تقریب کی اجازت نہیں ہوگی۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز

ریسٹورنٹس، کیفے، فوڈ آؤٹ لیٹس، فروٹ اور سبزی کی دکانیں اور ہوٹلز کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی۔ ہوم ڈیلیوری سروس اس سے مستثنیٰ ہوگی۔

فیصلے کی بنیادی وجوہات

حکام کے مطابق اس وقت ملک کو دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پہلا چیلنج پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں اور دوسرا بجلی کا بحران ہے۔ اگر کاروباری مراکز دیر تک کھلے رہتے ہیں تو اس سے نہ صرف بجلی کی کھپت بڑھتی ہے بلکہ ٹریفک میں اضافے سے پٹرول کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رات کے اوقات میں جلد مارکیٹیں بند کر دی جائیں تو اس سے قومی خزانے کو ماہانہ اربوں روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ یہی ماڈل دنیا کے کئی ممالک میں پہلے سے کامیابی سے نافذ ہے۔

خلاف ورزی پر کیا کارروائی ہوگی؟

نوٹیفیکیشن میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اوقات کار کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں اور کاروباری مراکز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ پہلی بار وارننگ دی جائے گی جبکہ بار بار خلاف ورزی پر جرمانہ اور دکان سیل کرنے کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

عوامی اور تاجر برادری کا ردعمل

اس فیصلے کے بعد تاجر برادری کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں توانائی بچت مہم میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے جبکہ کچھ تاجروں کا موقف ہے کہ کاروباری اوقات کم ہونے سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑے گا۔ دوسری جانب عام شہریوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ اس سے رات گئے ٹریفک اور بے جا رش میں کمی آئے گی۔

حکومت کی شہریوں سے اپیل

حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران انتظامیہ سے تعاون کریں۔ غیر ضروری طور پر بجلی کے استعمال سے گریز کریں، دن کے اوقات میں خریداری مکمل کریں اور قومی مفاد میں توانائی بچت مہم کا حصہ بنیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عارضی اقدام ہے اور صورتحال بہتر ہوتے ہی اوقات کار میں نرمی کی جائے گی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حتمی اور صوبہ وار تفصیلات متعلقہ ڈپٹی کمشنر دفاتر سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : رحیم یار خان: ڈی پی او عرفان علی سموں کا کوٹسمابہ میں خاتون پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوش کا سخت نوٹس، ملزم گرفتار



Post a Comment

0 Comments

Recent