Ticker

6/recent/ticker-posts

کچے کا اقتدار اور ریاست کی واپسی

The Power Of the Poor And The Return Of The State

تحریر و کالم : محمد خرم خان لغاری

دریائے سندھ کے ساتھ پھیلا ہوا “کچا” پاکستان کے ان چند خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں جغرافیہ صرف زمین کی ساخت نہیں بلکہ طاقت کی تقسیم کا تعین بھی کرتا ہے یہ وہ علاقہ ہے جہاں دریا کا بہاؤ ہر سال نئی شکل اختیار کرتا ہے، زمین کے ٹکڑے جزائر میں بدل جاتے ہیں، راستے بدل جاتے ہیں اور قانون کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے یہی وہ خلا ہے جہاں جرائم پیشہ عناصر نے دہائیوں تک اپنی جڑیں مضبوط کیں۔

راجن پور، کشمور اور گھوٹکی کے درمیان پھیلا یہی خطہ غلام رسول عرف چھوٹو کے لیے ایک قدرتی قلعہ ثابت ہوا ابتدا میں چھوٹے پیمانے کے جرائم—چوری، ڈکیتی اور قبائلی جھگڑوں سے شروع ہونے والی سرگرمیاں وقت کے ساتھ ایک مکمل منظم نیٹ ورک میں تبدیل ہو گئیں چھوٹو گینگ نے نہ صرف جرائم کو وسعت دی بلکہ ایک ایسا غیر رسمی “نظام” قائم کیا جس میں مقامی لوگ خوف اور مجبوری کے تحت ان کے احکامات ماننے لگے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے آخر ایک مجرم گروہ کیسے اس حد تک طاقتور ہو جاتا ہے کہ ریاستی ادارے بھی پسپا نظر آئیں؟ اس کا جواب صرف اسلحے یا طاقت میں نہیں بلکہ تین بنیادی عوامل میں پوشیدہ ہے

پہلا، جغرافیائی برتری
کچے کے علاقے میں داخل ہونا ہی ایک چیلنج ہے پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہاں مستقل موجودگی برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے، جبکہ مقامی گروہ ہر راستے، ہر پگڈنڈی اور ہر آبی گزرگاہ سے واقف ہوتے ہیں۔

دوسرا، سماجی ڈھانچہ 

غربت، تعلیم کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان ایسے عناصر کو جگہ دیتا ہے جو طاقت کے ذریعے اپنا نظام نافذ کرتے ہیں۔ بعض اوقات مقامی لوگ خوف یا مفاد کے تحت ان گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔

تیسرا، ریاستی کمزوری اور تاخیر
جب بروقت اور مؤثر کارروائی نہ ہو تو چھوٹے جرائم بڑے نیٹ ورک میں تبدیل ہو جاتے ہیں چھوٹو گینگ بھی اسی خلا کا نتیجہ تھا

وقت گزرنے کے ساتھ چھوٹو گینگ نے اغوا برائے تاوان کو اپنی آمدنی کا بڑا ذریعہ بنا لیا۔ تاجروں، زمینداروں اور یہاں تک کہ سرکاری اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا جو مزاحمت کرتا، اسے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا۔ یہی وہ حکمت عملی تھی جس نے خوف کو ایک “نظام” میں بدل دیا۔

سپریم کورٹ میں بعد ازاں ہونے والی سماعت کے دوران ججز کے ریمارکس اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، جب کہا گیا کہ یہ گینگ اپنے علاقے میں “بادشاہ” بن چکا تھا اور بعض مقامات پر پولیس اسٹیشنز تک بند کرنا پڑے یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ریاستی عملداری کے لیے ایک سنگین سوال تھا۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے چھوٹو گینگ صرف ایک جرائم پیشہ گروہ نہیں رہا بلکہ اس نے ایک “متوازی اختیار” قائم کر لیا تھا مقامی تنازعات میں فیصلے، لوگوں کو تحفظ یا دھمکیاں دینا، اور اپنے قوانین نافذ کرنا—یہ سب اس بات کی نشانیاں ہیں کہ ریاست کی جگہ ایک غیر قانونی طاقت نے لے لی تھی لیکن ہر عروج کا ایک زوال بھی ہوتا ہے۔

سن 2016 وہ سال تھا جب یہ متوازی نظام پہلی بار سنجیدہ انداز میں چیلنج ہوا پولیس نے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا، جس کا مقصد اس گینگ کو ختم کرنا تھا ابتدا میں یہ کارروائی ایک معمول کا آپریشن سمجھی جا رہی تھی، مگر جلد ہی یہ ایک بڑے تصادم میں بدل گئی۔

تھانہ اچھا کی حدود میں ہونے والی جھڑپ نے پورے ملک کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی پولیس اور گینگ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں کئی اہلکار شہید اور زخمی ہوئے لیکن اصل جھٹکا اس وقت لگا جب 24 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا یہ لمحہ دراصل ایک “ٹرننگ پوائنٹ” تھا۔

یہ صرف ایک جرائم پیشہ کارروائی نہیں تھی بلکہ ریاست کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ کچے میں اب بھی ایک ایسی طاقت موجود ہے جو کھلے عام چیلنج دے سکتی ہے یہی وہ واقعہ تھا جس نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ روایتی پولیس کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک بڑے پیمانے کا آپریشن کرے۔

یہاں سے کہانی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے جہاں پولیس کے ساتھ ساتھ فوج بھی میدان میں آتی ہے، جہاں حکمت عملی بدلتی ہے، اور جہاں پہلی بار ریاست پوری قوت کے ساتھ اس “ریاست کے اندر ریاست” کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتی  ہے۔ جاری ہے

یہ بھی پڑھیں : رحیم یار خان کے قبرستانوں میں اضافی فیس کا انکشاف | لواحقین کا احتجاج

Post a Comment

0 Comments

Recent