The difference between feelings, body, and law - What is the reality of eunuchs, neutering, and transgender?
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رویہ ہے۔ ہم کسی مسئلے کو یا تو بالکل چھپا دیتے ہیں یا پھر اسے تماشا بنا دیتے ہیں۔ ٹرانس جینڈر کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہم نے کبھی یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ اس لفظ کے پیچھے کتنی مختلف حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ہر ایک کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دینا آسان ہے، لیکن یہ انصاف نہیں ہے۔
اصل میں یہ تین بالکل الگ الگ کیفیات ہیں جنہیں ہم نے ایک ہی نام دے دیا ہے۔
پہلی حقیقت، پیدائشی مجبوری
یہ خالصتاً ایک جسمانی اور پیدائشی معاملہ ہے جسے ڈاکٹری زبان میں جنسی نشوونما کی خرابی کہا جاتا ہے۔ اس میں بچے کے جسم میں کوئی کمی رہ جاتی ہے۔
تحقیق کہتی ہے کہ دنیا میں ہر ساڑھے چار ہزار سے پانچ ہزار بچوں میں سے ایک بچہ اس خرابی کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ عام طور پر لڑکے میں ایکس وائی اور لڑکی میں ایکس ایکس مادہ ہوتا ہے، لیکن ان بچوں میں معاملہ الٹ ہوتا ہے۔ کبھی ظاہر میں بچہ لڑکا لگتا ہے لیکن اندر اس کے زنانہ اعضاء ہوتے ہیں، اور کبھی اس کے برعکس۔ یہ قدرت کی طرف سے ایک آزمائش ہے، کوئی گناہ نہیں، کوئی اپنی مرضی سے اختیار کیا ہوا راستہ نہیں۔
ہمارا دین اس معاملے میں بہت واضح اور بہت رحیم ہے۔ چودہ سو سال پہلے فقہ کی کتابوں میں اسے خنثی مشکل کا نام دیا گیا۔ بڑے بڑے اماموں نے اس پر تفصیل سے لکھا کہ ایسے شخص کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی، اس کی عبادت کا طریقہ کیا ہوگا۔ یعنی اسلام نے اسے کبھی جھٹلایا نہیں، بلکہ اس کے لیے قانون بنایا، اسے عزت دی۔ ایسے لوگوں کو حق دینا، تعلیم دینا، روزگار دینا ہم سب پر فرض ہے۔
دوسری حقیقت، دماغ اور جسم کی لڑائی
دوسری کیفیت کا نام صنفی بے چینی ہے۔ یہ پہلی سے زمین آسمان کا فرق رکھتی ہے۔ یہاں جسم بالکل تندرست ہے۔ سارے ہارمون پورے ہیں، سارے ٹیسٹ نارمل ہیں۔ نہ کوئی پیدائشی نقص ہے نہ کوئی کمی۔ لیکن دماغ اس جسم کو قبول نہیں کرتا۔
ایک صحت مند لڑکا صبح اٹھ کر کہتا ہے کہ مجھے لگتا ہے میں لڑکی ہوں، میں اس مردانہ جسم میں قید ہوں یا ایک لڑکی کہتی ہے کہ میں لڑکا ہوں یہ ایک شدید ذہنی دباؤ کی حالت ہے انسان اپنے ہی جسم سے نفرت کرنے لگتا ہے، آئینہ دیکھنا چھوڑ دیتا ہے، تنہائی پسند ہو جاتا ہے۔
پہلے زمانے میں پوری دنیا میں اسے ذہنی بیماریوں کی فہرست میں رکھا جاتا تھا۔ پھر دو ہزار تیرہ کے بعد باہر کے ملکوں میں اسے بیماری کی فہرست سے نکال دیا گیا اور اسے ایک نئی پہچان کا نام دے دیا گیا۔ لیکن نام بدلنے سے تکلیف تو ختم نہیں ہوتی۔ آج بھی دنیا کے بڑے ماہر نفسیات یہی کہتے ہیں کہ ایسے بچوں کو سب سے پہلے اچھی ذہنی مشاورت کی ضرورت ہے، نہ کہ فوری طور پر آپریشن کی۔
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اس مشاورت کا کوئی نظام ہی نہیں۔ والدین بدنام ہونے کے ڈر سے بات چھپا لیتے ہیں۔ بچہ اکیلا رہ جاتا ہے اور پھر وہ حل کے لیے موبائل کی طرف جاتا ہے۔ وہاں اسے ایسی ویڈیوز ملتی ہیں جو اسے بتاتی ہیں کہ بس آپریشن کروا لو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔
تیسری حقیقت،آپریشن سے جنس بدلنا
جب یہی بے چینی بڑھ جاتی ہے تو انسان تیسرے مرحلے پر چلا جاتا ہے۔ یہاں وہ اپنی آواز بدلنے کے لیے دوائیں لیتا ہے، ہارمون کے ٹیکے لگواتا ہے اور آخر میں چیر پھاڑ کے ذریعے اپنے صحت مند اعضاء کٹوا دیتا ہے۔ ڈاکٹری میں اس عمل کے لیے خصیے نکالنے اور عضو تناسل کاٹنے جیسے بڑے آپریشن کیے جاتے ہیں۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں بات ڈاکٹری سے نکل کر دین اور اخلاق میں داخل ہو جاتی ہے۔ قرآن پاک میں سورہ نساء کی آیت نمبر ایک سو انیس میں اس بات کا ذکر بہت پہلے سے موجود ہے کہ شیطان انسان کو کہے گا کہ اللہ کی بنائی ہوئی شکل کو بدل دو۔ اسی بنیاد پر پاکستان سمیت پوری دنیا کے جید علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جو شخص پیدائشی طور پر مکمل مرد یا مکمل عورت ہے، اس کا صرف اپنے احساس کی بنیاد پر آپریشن کے ذریعے جنس بدلنا جائز نہیں ہے۔ ہاں، جو پیدائشی خنثی ہے، اس کا علاج کروا کر کسی ایک جنس کی طرف جانا جائز ہے، بلکہ ضروری ہے۔
ہمارا قانون اور اس کا غلط استعمال
دو ہزار اٹھارہ میں جب ہمارے ملک میں اس بارے میں قانون بنا تو اس کی نیت بہت اچھی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ جو پیدائشی مجبور لوگ سڑکوں پر بھیک مانگ رہے ہیں، انہیں شناختی کارڈ ملے، انہیں نوکری ملے، انہیں وراثت میں حصہ ملے۔ یہ ایک بہت نیک کام تھا۔
لیکن قانون لکھتے ہوئے ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی اس میں لکھ دیا گیا کہ ہر شخص اپنی جنس کا خود تعین کر سکتا ہے۔ یعنی آپ کو کسی ڈاکٹری بورڈ سے تصدیق کروانے کی بھی ضرورت نہیں، بس آپ دفتر جائیں اور کہیں کہ میں مرد سے عورت ہو گیا ہوں یا عورت سے مرد، اور آپ کا شناختی کارڈ بدل جائے گا۔
اسی شق کی وجہ سے سارا نظام خراب ہو گیا۔ دو ہزار تئیس میں وفاقی شرعی عدالت نے بھی اسی بات کو پکڑا اور کہا کہ پیدائشی مجبور اور اپنی مرضی سے جنس بدلنے والے میں فرق کیا جائے۔ یہ فرق نہ کرنے سے اصل حقدار آج بھی سڑک پر ہے اور فائدہ کوئی اور اٹھا رہا ہے۔
بات نفرت کی نہیں، سمجھنے کی ہے۔ ہمیں ان مجبوروں کو گلے لگانا ہے جو پیدائشی طور پر ایسے ہیں۔ انہیں اسکولوں میں داخلہ دینا ہے، انہیں دکانوں اور دفتروں میں نوکری دینی ہے۔ اور جو نوجوان اس ذہنی الجھن کا شکار ہیں، ان کا مذاق اڑانے کے بجائے ان کے لیے ہر بڑے ہسپتال میں اچھے ماہر نفسیات کا بندوبست کرنا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں سے دوستی کریں، تاکہ وہ اپنی الجھن گھر میں بتا سکیں، موبائل پر کسی اجنبی کو نہیں۔

0 Comments