Punjab Chief Minister Green Tractor Scheme 2026 - 9500 tractors at a subsidy of Rs 1 million, last date October 5
کسان خوشحال، پنجاب خوشحال
حکومت پنجاب کی جانب سے کسانوں کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کسانوں کی سہولت اور زراعت کی ترقی کے لیے ہائی پاور گرین ٹریکٹر پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے لیے باقاعدہ ویب سائٹ پورٹل کا افتتاح بھی کر دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پنجاب کے ان کسانوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو مہنگے ٹریکٹر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اس پروگرام کے تحت حکومت پنجاب کسانوں کو ٹریکٹر کی خریداری پر دس لاکھ روپے تک کی خطیر رقم بطور مدد فراہم کرے گی۔ یہ مدد کسی قرض کی صورت میں نہیں بلکہ مکمل رعایت کی صورت میں دی جائے گی۔ اس سے کسان پر مالی بوجھ بہت کم ہو جائے گا اور وہ آسانی سے نیا اور طاقتور ٹریکٹر خرید سکے گا۔
حکومت پنجاب نے اس مرحلے کے لیے نو ہزار پانچ سو ٹریکٹروں کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ تمام ٹریکٹر پچھتر ہارس پاور اور اس سے زیادہ طاقت کے حامل ہوں گے۔ عام طور پر چھوٹے ٹریکٹر کمزور زمین پر تو کام کر لیتے ہیں مگر سخت اور بڑے رقبے پر ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ پچھتر ہارس پاور سے زیادہ طاقت کے ٹریکٹر نہ صرف گہری جتائی کر سکتے ہیں بلکہ جدید زرعی آلات بھی با آسانی چلا سکتے ہیں۔ اس سے وقت کی بچت ہوگی اور فصل کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت پنجاب نے اس پروگرام کو سبسڈی والا سبز ٹریکٹر کا نام دیا ہے۔ سبز رنگ خوشحالی اور ترقی کی علامت ہے۔ اسی سوچ کے تحت کسان کو دیا جانے والا ٹریکٹر نہ صرف اس کے کھیت کو ہرا بھرا کرے گا بلکہ اس کی زندگی میں بھی خوشحالی لائے گا۔
اس پروگرام سے فائدہ کون اٹھا سکتا ہے
اس سہولت کے لیے کچھ شرائط رکھی گئی ہیں تاکہ اصل حقدار کسان تک یہ رعایت پہنچ سکے۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ درخواست دینے والا کسان پنجاب کا رہائشی ہو اور اس کا شناختی کارڈ پنجاب کے کسی بھی ضلع سے بنا ہوا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ کسان کے نام پر زرعی زمین موجود ہو اور اس کا ریکارڈ پنجاب کے اراضی ریکارڈ مرکز میں درج ہو۔ اگر زمین خاندان کے کسی فرد کے نام پر ہے تو بھی کچھ صورتوں میں درخواست قابل قبول ہوگی مگر اس کے لیے خاندانی تصدیق درکار ہوگی۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ کسان اس سے پہلے حکومت کے کسی بھی ٹریکٹر اسکیم سے فائدہ نہ لے چکا ہو۔ اس سے نئے کسانوں کو موقع ملے گا۔
درخواست دینے کا طریقہ کار بہت آسان رکھا گیا ہے۔ حکومت نے اس کے لیے دو ویب سائٹ اور ایپ بنائی ہیں۔ کسان گھر بیٹھے اپنے موبائل یا کمپیوٹر سے درخواست جمع کروا سکتا ہے۔ درخواست کے لیے شناختی کارڈ کی نقل، زمین کی فرد اور ایک فعال فون نمبر درکار ہوگا۔ تمام معلومات درست اور مکمل ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی کسان کو ویب سائٹ پر درخواست دینے میں مشکل پیش آ رہی ہے تو وہ اپنے ضلع کے محکمہ زراعت کے دفتر جا کر مفت رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ محکمہ زراعت کے عملے کو خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسانوں کی مدد کریں۔
درخواست کی آخری تاریخ
حکومت نے درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ پانچ اکتوبر دو ہزار چھبیس مقرر کی ہے۔ اشتہار کے مطابق اب صرف چھ دن باقی رہ گئے ہیں۔ اس لیے جن کسانوں نے ابھی تک درخواست نہیں دی وہ جلد از جلد اپنی درخواست مکمل کر لیں۔ آخری تاریخ کے بعد کسی بھی درخواست کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے تاخیر سے گریز کرنا بہتر ہے۔
قرعہ اندازی کا طریقہ
چونکہ درخواست دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی توقع ہے جبکہ ٹریکٹروں کی تعداد نو ہزار پانچ سو ہے اس لیے حکومت شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے خوش نصیب کسانوں کا انتخاب کرے گی۔ قرعہ اندازی کمپیوٹر کے ذریعے کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی جانبداری کا شائبہ تک نہ رہے۔ جن کسانوں کا نام قرعہ اندازی میں نکلے گا ان کو فون اور پیغام کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ منظور شدہ ڈیلر سے اپنا ٹریکٹر وصول کر سکیں گے۔
اس پروگرام کے فائدے
اس پروگرام کے بے شمار فائدے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان کو دس لاکھ روپے کی بڑی رعایت مل رہی ہے۔ آج کل ٹریکٹروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایک عام کسان کے لیے اتنا مہنگا ٹریکٹر خریدنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اس رعایت سے کسان آسانی سے ٹریکٹر کا مالک بن جائے گا۔
دوسرا فائدہ یہ ہے کہ طاقتور ٹریکٹر آنے سے کسان کی محنت کم ہو جائے گی۔ ایک ہی ٹریکٹر سے جتائی، بوائی اور فصل کی کٹائی کے کئی کام لیے جا سکیں گے۔ جدید آلات لگنے سے زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ ہوگا۔
تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے زرعی پیداوار بڑھے گی۔ جب زمین کی اچھی جتائی ہوگی اور وقت پر بوائی ہوگی تو فصل بہتر ہوگی۔ فصل بہتر ہوگی تو کسان کی آمدنی بڑھے گی۔ کسان کی آمدنی بڑھے گی تو پورا پنجاب خوشحال ہوگا۔ اسی لیے اس نعرے کو کسان خوشحال پنجاب خوشحال کا نام دیا گیا ہے۔
چوتھا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ٹریکٹر کے آنے سے کسان دوسرے چھوٹے کسانوں کو کرائے پر ٹریکٹر دے کر بھی آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔
حکومت پنجاب کا پیغام
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا ہے کہ کسان ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسان خوشحال ہوگا تو پنجاب خوشحال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کسانوں کی فلاح کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔ ہائی پاور گرین ٹریکٹر پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے تمام کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں اور وقت پر درخواست دیں۔
نظامت اعلی زرعی معلومات پنجاب اور محکمہ زراعت حکومت پنجاب اس پورے منصوبے کی نگرانی کر رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی معلومات یا شکایت کے لیے محکمہ نے ایک مفت ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے۔ کسان صبح آٹھ بجے سے شام آٹھ بجے تک اس نمبر پر رابطہ کر کے معلومات لے سکتے ہیں۔
آخر میں تمام کسان بھائیوں سے گزارش ہے کہ یہ موقع بار بار نہیں آتا۔ دس لاکھ روپے کی رعایت ایک بہت بڑی رقم ہے۔ اس لیے جلدی کریں، اپنی زمین کے کاغذات مکمل کریں اور آج ہی درخواست جمع کروائیں۔ کیونکہ آخری تاریخ قریب ہے اور اب صرف چھ دن باقی ہیں۔

0 Comments