Tiker

بورےوالا میں افسوسناک واقعہ، بیرون ملک گئے شخص کے گھر کی عزت پر حملہ، پولیس تفتیش جاری

وہاڑی کی تحصیل بورےوالا کے نواحی گاؤں چک نمبر 371 ای بی میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ بیرون ملک روزگار کے سلسلے میں ترکی کے شہر استنبول میں مقیم ایک محنت کش کی غیر موجودگی میں اس کے گھر کی عزت کو مبینہ طور پر تار تار کر دیا گیا۔

Burewala city Vehari district crime news


ذرائع اور متاثرہ خاتون کے ابتدائی بیان کے مطابق اس گھناؤنے جرم میں ملوث شخص کوئی غیر نہیں بلکہ اسی گاؤں کا رہائشی اور متاثرہ خاندان کا دور کا رشتہ دار بتایا جا رہا ہے جس کی شناخت الیاس اوڈھ کے نام سے ہوئی ہے۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟


متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ملزم مبینہ طور پر زبردستی اس کے گھر میں داخل ہوا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس دوران ملزم نے مبینہ طور پر اس کی قابل اعتراض تصاویر بھی بنا لیں۔ یہی تصاویر بعد میں اس کے لیے وبال جان بن گئیں۔

خاتون کا الزام ہے کہ انہی تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر ملزم نے اسے مسلسل بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور اس اذیت کا سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ دیہات میں اکثر خواتین عزت کے ڈر سے خاموش رہتی ہیں اور یہی خاموشی بلیک میلر کے لیے سب سے بڑا ہتھیار بن جاتی ہے۔
اس کیس میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ خاتون عزت اور بدنام ہونے کے خوف سے کسی کو کچھ نہ بتا سکی۔

رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کا واقعہ


اس بھیانک سلسلے کا پردہ تقریباً تین ہفتے قبل اس وقت فاش ہوا جب متاثرہ خاتون کے چچا نے الیاس اوڈھ کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ گاؤں میں شور مچا تو معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔ اطلاع ملنے پر مقامی پولیس موقع پر پہنچی۔

متاثرہ خاتون کے مطابق ملزم نے اس دوران بھی اسے سنگین دھمکیاں دیں کہ اگر اس نے پولیس کے سامنے سچ بتایا تو وہ اس کی تصاویر انٹرنیٹ پر ڈال دے گا۔ اس شدید ذہنی دباؤ اور خوف کی وجہ سے خاتون اپنا مکمل بیان نہ دے سکی۔

پولیس نے اس وقت صورتحال کو دیکھتے ہوئے خاتون کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دارالامان وہاڑی منتقل کر دیا۔ دارالامان وہ خواتین کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے جہاں ایسی متاثرہ خواتین کو رکھا جاتا ہے جنہیں گھر یا معاشرے سے خطرہ ہو۔

دارالامان سے واپسی کے بعد دوبارہ اذیت


پولیس ذرائع کے مطابق خاتون 5 دن تک دارالامان وہاڑی میں رہی۔ 5دن بعد جب وہ وہاں سے نکلی اور گگو منڈی پہنچی تو الزام ہے کہ ملزم الیاس نے اسے دوبارہ اپنے قابو میں کر لیا اور زبردستی لاہور لے گیا۔

خاتون 11 دن تک لاہور میں رہی جس کے بعد وہ کسی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی اور واپس اپنے آبائی گاؤں چک نمبر 371 ای بی پہنچ گئی۔

واپس گاؤں پہنچنے پر اسے ایک اور تکلیف دہ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ خاتون کے مطابق وہ اس مبینہ زیادتی کے نتیجے میں 2 ماہ کی حاملہ ہو چکی ہے۔ یہ انکشاف اس کیس کو مزید سنگین اور پیچیدہ بنا رہا ہے۔
Punjab Police Station Burewala investigation

پولیس کا مؤقف اور قانونی کارروائی


اس تمام معاملے کے سامنے آنے کے بعد مقامی پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک سنگین لیکن مشکوک اور حساس نوعیت کا معاملہ ہے، اس لیے ہر پہلو سے باریک بینی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

قانون کے مطابق اگر بلیک میلنگ اور زنا بالجبر کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 اور 509 کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے خواتین کے تحفظ کے لیے ویمن پروٹیکشن اتھارٹی اور ویمن ہیلپ لائن 1043 بھی قائم کر رکھی ہے۔

معاشرتی پہلو


اس واقعہ نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ بیرون ملک گئے افراد کے گھروں کی خواتین کتنی غیر محفوظ ہیں۔ جب گھر کا سربراہ روزگار کے لیے باہر ہو تو پیچھے سے رشتہ داروں اور محلے داروں کی جانب سے ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو چاہیے کہ وہ بلیک میلنگ کے پہلے دن ہی اپنے قابل اعتماد خاندان کے افراد اور پولیس کو اطلاع دیں۔ بلیک میلر کی دھمکیوں میں آ کر خاموش رہنا مسائل کو مزید بڑھاتا ہے۔

فی الحال پولیس نے متاثرہ خاتون کا میڈیکل کروانے اور اس کا تفصیلی بیان قلمبند کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد مزید حقائق واضح ہوں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی سچ سامنے آئے گا اور ملوث ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔

علاقہ مکینوں نے ڈی پی او وہاڑی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی شفاف انکوائری کر کے متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کیا جائے۔
Justice for women in Pakistan law

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلی پنجاب گرین ٹریکٹر اسکیم 2026 - 10 لاکھ سبسڈی پر 9500 ٹریکٹر، آخری تاریخ 5 اکتوبر


Post a Comment

0 Comments

Recent