لاہور ہائیکورٹ سے ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے پورے صوبے میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کے ایس ایچ او حسن عمران اور ان کے ساتھی اہلکاروں کی ضمانت قبل از گرفتاری اور بعد از گرفتاری کی درخواستیں عدالت عالیہ نے خارج کر دی ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ملزمان کو حراست میں لینے کی کارروائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایس ایچ او حسن عمران پر انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں اور مدعی مقدمات کا الزام ہے کہ ایس ایچ او نے مبینہ طور پر وردی کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مختلف مبینہ پولیس مقابلوں کی آڑ میں کئی بے گناہ عام شہریوں کو قتل کیا۔
اس کیس میں سب سے زیادہ توجہ طلب معاملہ ایک وکیل کے بھائی کے قتل کا ہے۔ مدعی کے مطابق وکیل کے بھائی کو مبینہ طور پر جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا اور بعد میں ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد وکلاء برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وکلاء تنظیموں نے اس واقعے کی بھرپور مذمت کی تھی۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ پہلے مقامی پولیس نے ان کی بات نہ سنی، جس کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ متاثرین نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ حسن عمران اور اس کے ساتھیوں نے قانون کو ہاتھ میں لے کر شہریوں کی زندگیوں سے کھیلا ہے اور پولیس جیسے مقدس محکمے کو بدنام کیا ہے۔
آج لاہور ہائیکورٹ میں اس کیس کی اہم سماعت ہوئی۔ جسٹس صاحب کی عدالت میں دونوں فریقین کے وکلاء نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل بے گناہ ہیں اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسن عمران ایک فرض شناس افسر ہے جس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور اسی وجہ سے اس کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب مدعی کے وکیل اور سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے عدالت میں پوسٹ مارٹم رپورٹس، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر دستاویزی ثبوت پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملزمان کو ضمانت دی گئی تو وہ شواہد کو ضائع کر سکتے ہیں اور گواہوں کو ڈرا دھمکا سکتے ہیں۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل کو تفصیل سے سنا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس کا کام عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے، عوام کی جان لینا نہیں۔ اگر وردی میں ملبوس اہلکار ہی قانون سے بالاتر ہو جائیں گے تو عام شہری انصاف کے لیے کہاں جائیں گے۔
طویل سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود شواہد اور الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزمان ضمانت کے حقدار نہیں ہیں۔ اس لیے ایس ایچ او حسن عمران سمیت تمام ساتھی اہلکاروں کی ضمانت کی درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔
عدالت کے اس فیصلے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود متاثرہ خاندانوں نے اس فیصلے کو سراہا۔ وکلاء برادری نے بھی اس فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اب بھی عدالتیں آزاد ہیں اور کوئی بھی شخص خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے پہلے ہی یہ ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ جو بھی اہلکار ماورائے عدالت قتل میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی بھی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ یہ مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے اور ملزمان پر لگائے گئے الزامات ابھی ثابت ہونا باقی ہیں۔ قانون کے مطابق جب تک عدالت کسی ملزم کو سزا نہیں سناتی وہ بے گناہ تصور ہوتا ہے۔ ضمانت خارج ہونا سزا نہیں بلکہ ٹرائل مکمل ہونے تک حراست میں رکھنے کا عدالتی فیصلہ ہے۔
اس کیس کی اگلی سماعت ٹرائل کورٹ میں ہوگی جہاں باقاعدہ طور پر گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔


0 Comments